سوچتا ہوں جانے کیوں؟
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratبے قرار موسم میں
کچھ اداس لمحوں میں
زندگی کے ہاتھوں میں
بے خودی کے گھیرے میں
ہر گلی کی نکّر پر
ہر ندی کنارے پر
میری آنکھ سے بہتے
آنسوؤں کے دھارے پر
تیرے ساتھ رہنے کا!
شہر بھر کے چہروں کی
سب حسین آنکھوں میں
جھانک کر تری خاطر
تجھ کو تکتے رہنے کا!
خوشبوؤں کے دامن میں
ہر کلی کی آہٹ پر
تجھ سے بات کرنے کا!
ان اداس سڑکوں پر
رات کے اندھیروں میں
صرف تیرے بارے میں
سوچتے ہی رہنے کا!
سوچتا ہوں جانے کیوں!
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






