سوچنے کی بات ہے نا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaسوچنے کی بات ہے نا
وہ شخص مجھ سے بچھڑ گیا
میری محبتوں سے نکھڑ گیا
سوچنے کی بات ہے نا
وہ بھُول گیا قسمیں وعدے
وہ بھُول گیا سبھی ارادے
سوچنے کی بات ہے نا
حالاکہ وہ مجھ سے کہتا تھا
تُو میری رَگ رَگ میں بہتا تھا
سوچنے کی بات ہے نا
پھر بھی بھُلا دیا اُس نے
یہ کر کیا دیا اُس نے
سوچنے کی بات ہے نا
کبھی وہ بھی تھے یارو دن
پل نہ گزرتا تھا میرے بن
سوچنے کی بات ہے نا
اتنے سال اُس نے کیسے گزار دیئے
دل کے ارمان دل میں کیسے مار دیئے
سوچنے کی بات ہے نا
ایسا کونسا حبیب مل گیا اُسے
میرا کونسا رقیب مل گیا اُسے
سوچنے کی بات ہے نا
کتابوں میں سوکھے گلاب تلاش کرتا ہوں
میں تمام سوالوں کے جواب تلاش کرتا ہوں
سوچنے کی بات ہے نا
سوچنے کے بعد بھی ہر سوال اُدھورا ہے
سب کچھ پا کے بھی نہال اُدھورا ہے
سوچنے کی بات ہے نا
سوچنے کی بات ہے نا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






