کیا بات سناؤں میں اُس کی اب بات پرانی رہی نہیں

Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwala

میں اُس کا راجہ رہا نہیں وہ میری رانی رہی نہیں۔
کیا بات سناؤں میں اُس کی اب بات پرانی رہی نہیں۔

ہم ملتے تھے جس باغ میں وہ باغ ویرانوں میں دن گیا
میری طرح باغ بھی اُجڑے کوئی باقی نشانی رہی نہیں۔

عشق و عشرت کے دن گئے پہلے جیسا جنون نہیں اب
اُس کے بال سفید ہوئے مجھ پے بھی جوانی رہی نہیں۔

شعر و شاعری میں بیان ہوتی تھی پیار کی باتیں سب
اب بات یاد رہتی نہیں زبان میں بھی روانی رہی نہیں۔

رہا ترے وصل کا آرزو مند میں جتنے سال بھی جیا
کیسے دؤں گنوائی اپنے حالات کی زندہ زندگانی رہی نہیں۔

حویلی دل کی کیسے نہ لُٹتی اب تُم ہی کوئی جواب دو
خواہش بے چادر پڑی رہی دل کی کوئی نگرانی رہی نہیں۔

دل کے سب ورکوں کو ترے غموں سے سیاہ کیا میں نے
میں نے لکھ دیا ہر راز دل پے اب بات زبانی رہی نہیں۔

چھوڑو کیا کرنا سُن کے وہ وقت کے ساتھ بیت گئی نہال
کیا کرنا سُن کے وہ کہانی یار جو اب کہانی رہی نہیں۔

Rate it:
Views: 933
19 Nov, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL