سپنوں میں آیا کرتی ہے
Poet: Kashan Jafri By: Kashan Jafri, karachiاک لڑکی ہے، بڑی پیاری سی
سپنوں میں آیا کرتی ہے
کچھ چنچل سی اداؤں سے
ہر شب ستایا کرتی ہے
کچھ سب سے خوش، کچھ سب میں مگن
کچھ خود میں الجھی رہتی ہے
میں پیار تم ہی سے کرتی ہوں
ہر رات یہ مجھ سے کہتی ہے
کچھ شرما کر، کچھ گھبرا کر
کچھ پلکیں اپنی جھکا کر
کبھی کہانی میری سنتی ہے
کبھی اپنی سنایا کرتی ہے
اک لڑکی ہے، بڑی پیاری سی
سپنوں میں آیا کرتی ہے
روکنا چاہوں میں لاکھ اسے
وہ اپنے من کی کرتی ہے
آؤنگی کل شب پھر
ہر شب یہ وعدہ کرتی ہے
میری دھڑکنیں ساتھ لیے
ہر شب وہ جایا کرتی ہے
اک شب سنو، کچھ یوں ہوا
اس نے سپنوں میں آنا چھوڑ دیا
زندگی کی ویراں راہوں پر
مجھے اکیلا روتا چھوڑ دیا
اب میں لاکھ پکاروں، لاکھ اسے
فاصلے بڑھتے جاتے ہیں
نا سوتا ہوں اب ہر شب میں
نا سپنے اس کے آتے ہیں
آج بھی اشق یہ ترسے ہیں
یاد میں اس کی برسے ہیں
جو اک لڑکی تھی بڑی پیاری سی
سپنوں میں آیا کرتی تھی
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ






