سہارا چاہیئے
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas زندگی جینے کو پھر کوئی سہارا چاھیئے
ہمیں اور کچھ نہیں بس ساتھ تمہارا چاھیئے
تم کہو تو تمہاری خاطر یہ دنیا چھوڑ دیں
حکم بجا سر آنکھوں پر بس ایک اشارہ چاھیئے
تیرے عشق کا دریاء جنون میں ھے اپنے
دل آپے سے باہر ھے اسے دہارا چاھیئے
اپنی دنیا لٹ جانے کا ہمیں کوئی غم نہیں
صدقے تیرے واری کچھ نہیں خدارا چاھیئے
اسد کب سے منتظر ھے تیری ایک جھلک دیکھے
دل مشتاق کو فقط تیرے جلوے کا نظارا چاھیئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






