شام سے پہلے
Poet: attia khan mughal By: attia khan mughal, sergodhaفیض کیا وہ بھی راستے میں تھے
جو کہ نکلے تھے شام سے پہلے
زندگی بار بار اٹھتی تھی
ہم نہ مانے پہ شام سے پہلے
اسکے ہاتھوں کے مرمریں پےالے
چاند ان میں تھا شام سے پہلے
صبح دم کتنے باخبر ٹہرے
بے خبر تھے جو شام سے پہلے
اسکی آنکھوں میں جا کہ ڈوب گئے
جو ستارے تھے شام سے پہلے
صبح رسوائیوں کی زد میں تھے
معتبر تھے جو شام سے پہلے
شبِ زنداں سے یونہی ڈرنا کیا
جسم زندہ تھے شام سے پہل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






