کون؟
Poet: attia khan mughal By: attia khan mughal, sergodhaدل کو اپنی ھی الجھنیں ہیں بس
کون اپنائے گا رواجوں کہ
کون کھیلے روائتوں کے کھیل
کون سمجھا کرے مزاجوں کو
کیسے مردہ نصاب اپنائے
کون پرھتا ہے ان کتابوں
کےا کسی آرزو کو شام و سحر
پوجنے سے مراد ملتی ہے
کےا چمن میں بہار آنے پر
ہر کلی پھول بن کے کھلتی ہے
ہر دےکر ہوا کے ہاتھوں میں
پھول کتنے صبا مسلتی ہے
کیسے س کائنات کی گردش
ساری زیروزبر نگلتی ہے
کیسے سانسوں کی ڈور کھنچتی ہے
کیسے نبضوں کی تال چلتی ہے
پھر بھی دیکر اجل کے ہاتھ میں ہاتھ
زندگی روز ہاتھ ملتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






