شام کا پہلا تارہ میں ہوں
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratشام کا پہلا تارہ میں ہوں
رات کے دُکھ کا چارہ میں ہوں
میرے بس میں کچھ بھی نہیں ہے
تیرے بس میں سارا میں ہوں
سنجیدہ ہو کر بتلا دو!
سچ مچ سب سے پیارا میں ہوں؟
کاش کہ تم بھی میرے ہوتے
دیکھو صرف تمہارا میں ہوں
دربدری یہ تُو بھی سُن لے
ماں کا راج دلارا میں ہوں
جیت سکے ہو کب لوگوں سے
تم سے تو بس ہارا میں ہوں
حکم ہے رو کر ہنس دینے کا
اُس کا ایک اشارہ میں ہوں
زینؔ مجھے اب کون سمیٹے
کب سے پارہ پارہ میں ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






