شعلہ سا ایک پیار کا دہکا گئے ناں آپ؟؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillہر راستے میں خوشبوئیں بکھرا گئے ناں آپ؟
اپنے ہی ظل حسن سے ٹکرا گئے ناں آپ ؟
ساقی ابھی تو میں نے چھوا ہی نہیں ساغر
یونہی کسی خیال سے گھبرا گئے ناں آپ ؟
آتی ہیں کہاں راس جنون کی رفاقتیں
آدھے سفر سے لوٹ کے گھر آ گئے ناں آپ؟
کل رات میری یاد کی دنیا سے نکل کر
خود آئینے کو دیکھ کے شرما گئے ناں آپ؟
سینے میں اپنی شوخ اداؤں کے بھیس میں
شعلہ سا ایک پیار کا دہکا گئے ناں آپ ؟
الفت کا سفر ہے نہ زماں ہے نہ زمیں ہے
لمحوں کی مسافت سے ہی اکتا گئے ناں آپ؟
اب ڈھونڈتے پھرو گے وہ نٹ کھٹ سی طبیعت
پھولوں کی طرح ہجر میں کملا گئے ناں آپ؟
سانسوں کی ہر لڑی میں پرویا ہے ایک نام
لفظوں کو اپنی یاد سے مہکا گئے ناں آپ؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






