خود کو تیری تصویر کئے جا رہا ہوں میں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillپانی پہ اک لکیر کئے جا رہا ہوں میں
کیوں تاج سا تعمیر کئے جا رہا ہوں میں
ہے میری دسترس میں سمے کی مہار بھی
لمحات کو تحریر کئے جا رہا ہوں میں
کیسی عجیب بات ہے ۔ اک تم سے ہار کر
دل کتنے ہی تسخیر کئے جا رہا ہوں میں
وہ جسکو تو نے رنگ حنا میں چھپا لیا
اس خواب کی تعبیر کئے جا رہا ہوں میں
یوں دیکھتے ہیں میرے جنوں کو وہ غور سے
جیسے کوئی تقصیر کئے جا رہا ہوں میں
جانے یہ میرا جوگ یا وارث کی صدا ہے
ہر نازنیں کو ہیر کئے جا رہا ہوں میں
اس بات پہ ظلمت ہے تیرے شہر کی نالاں
کیوں شہر میں تنویر کئے جا رہا ہوں میں
اب اس سے بڑھ کے اور ہے کس معجزے کی آس
خود کو تیری تصویر کئے جا رہا ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






