شمع تیرے پیار کا
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukلمحہ لمحہ یاس کا اب آس میں ڈھلنے لگا
سوچ کی دیلز پر پھر اک دیا جلنے لگا
کِھل گئی مانندِ لالہ کِشتِ غم کی ہر کلی
شاخِ ہستی کے رگ و پے میں لہو چلنے لگا
اک حقیقت کے بھنور میں خواب کھو کے رہ گیا
جب کبھی تعبیر کا ساحل اُسے ملنے لگا
ہے بڑی بے تاب منزل سوچ کے یہ چل پڑے
راستے میں یاد کچھ آیا قدم رکنے لگا
شمع تیرے پیار کا پھیلا یہ کیسا دائرہ
ہر کسی کا درد و غم یہ دل تیرا سہنے لگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







