آنکھوں میں اُس کی مستیوں
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesآنکھوں میں اُس کی مستیوں کو دیکھتے رہے
اِک پیار کے ساگر میں ہم تو ڈوبتے رہے
یوں چاندنی میں گھل گیا تھا روپ کا نکھار
اُس کو سمجھ کے چاند ہم دیکھتے رہے
پلکو پہ خوابوں کی طرح دستک اُسی کی تھی
چہرہ نمائی کا سماں ہم سوچتے رہے
سو بار تیری سے دل میں ہوئی خلش
سو بار تیرا نقشِ پا ہم چومتے رہے
پہلو میں تم کیا آگئے لمحے مہک گئے
ہر شاخِ دل پہ پھول بھی جھومتے رہے
دل میں بسا کے ہم خیالِ یار کو
بند آنکھوں سے جہاں کو دیکھتے رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







