شور دل میں برپا ہوا تو کون سنائی دے گا
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIشور دل میں برپا ہوا تو کون سنائی دے گا
آنکھ برسی تو کچھ بھی نہ دکھائی دے گا
بیٹھے بیٹھے مند ہو گئیں یہ منتظر آنکھیں
کب یہ سوچا تھا مجھے ایسی وہ جدائی دے گا
چاپ سنتے ہی ہوا روشن تن من دھن اپنا
ابھی چاند نکلا تو نہ جانے کیا رعنائی دے گا
ہم بھول جائیں بھلا کیسے وہ آشیاں اپنے
دل یونہی مچلے گا چمن جب بھی دکھائی دے گا
تو نے کردی ہے عجب توبہ کی یہ تاریخ رقم
عشق نہ کرنا یہ عالم بھی دوہائی دے گا
اب راز دل کے بھلا آنکھوں سے چھپاؤں کیسے
مجرم عشق تو آنکھوں سے دکھائی دے گا
گر گیا آخر اشتیاق پختہ بلند و بالا آشیاں اپنا
کیا خبر تھی کہ اک جھونکا ہی تباہی دے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






