شوق خواہشاتی ہے
Poet: Aisha Baig Aashi By: Aisha Baig Aashi, karachiشوق خواہشاتی ہے
ضبط معجزاتی ہے
رابطہ نہیں ٹُوٹا
دل مواصلاتی ہے
صبح دم تری خوشبو
بادِ صبح لاتی ہے
دل سے تُو کبھی اُترے
غیر ممکناتی ہے
تُو شمار سے باہر
جگ معاملاتی ہے
دیکھ بے بسی میری
مجھ پہ مسکراتی ہے
یاد، شام، جھیل اور تُو
آنکھ ڈُبڈباتی ہے
خاک، باد، آب، آتش
پر! تصوراتی ہے
آسمان تک دیوار
مصلحت اُٹھاتی ہے
آرزوئے جاں عاشی
کس قدر ستاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






