محبت بانجھ ہوتی ہے کبھی یہ پھل نہیں دیتی
Poet: Aisha Baig Aashi By: Aisha Baig Aashi, karachiخوشی کا اور راحت کا کبھی اِک پل نہیں دیتی
سدا بےچین رکھتی ہے محبت کل نہیں دیتی
وفا بِیجو، یقیں بِیجو، خلوص ایثار بھی بِیجو
محبت بانجھ ہوتی ہے کبھی یہ پھل نہیں دیتی
محبت کی ندی میں ڈُوب کر بھی ہم رہے تِشنہ
یہ کوئی آبِ زمزم کوئی گنگا جل نہیں دیتی
گھٹن ہے حبس ہے اور چلچلاتی دھوپ ہے ہر سو
عجب ساون کی رُت ہے بُوند بھر بادل نہیں دیتی
محبت کر کے عاشی اب سبھی سوچوں پہ پہرے ہیں
نویدِ جاں فزا امید کی کونپل نہیں دیتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






