شوق کو پھر زندہ کر دیا
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Rasul Tahir, Islamabadبیتاب دل کو آج سے پابندہ کر دیا
دیوانگی میں شوق کو پھر زندہ کر دیا
یہ شوق تو جنوں کو گیا لے کمال تک
اس نے تو آج حسن کو شرمندہ کر دیا
وہ عشوہ ہائے عشق کہ صد ہائے جاں فدا
اک اک ادا کو آج سے تابندہ کر دیا
ورتجگوں میں سحر کی مانند حسیں خیال
اس وعدہء وفا کودرخشدہ کر دیا
گر دیکھیے تو کتنی کٹھن ہے رہ حیات
ہم نے صعوبتوں کو پراگندہ کر دیا
طاہر میں چھوڑتا ہوں کسی اور وقت پر
فکر غم فراق کو آئندہ کر دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






