شکار
Poet: dr ch tanweer sarwar shakar By: dr ch tanweer sarwar, Lahoreکبھی اترے گا وہ قسمت کے ستارے لے کر
وہ بھی زندہ ہے اگر خواب ہمارے لے کر
شاید اس طرح تری میری ملاقات رہے
تیری گلیوں میں میں پھرتی ہوں غبارے لے کر
کتنا محفوظ سمجھتا ہے مجھے لب دریا
مری آنکھوں میں وہ خوابوں کے سہارے لے کر
میں تو دریا ہوں کسی روز اتر جاؤں گی
وہ بھی آ جائے سمندر کے کنارے لے کر
کتنا بزدل ہے مرے سامنے آتا بھی نہیں
خواب دیکھےہے محبت کے سہارے لے کر
میری آنکھوں میں جو رہنا ہے تو، تُو بھی پڑھ لے
میں تو بیٹھی ہوں محبت کے سپارے لے کر
وہ مرا ہے تو مجھے آ کے ملے گا وشمہ
میں نہ نکلوں گی یہ وحشت کے سہارے لے کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






