طوفانِ غم نے کیا پُر ملال افسردہ
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaطوفانِ غم نے کیا پُر ملال افسردہ
کسی کا دل تو کسی کا خیال افسردہ
ہوائے غم سے ہوا آج میرے گلشن کے
حسین پھولوں کا عکس و جمال افسردہ
اتر کے روح میں دیکھوں تو ہر کوئی انساں
ہے آج نکہتِ غم سے نڈھال افسردہ
تمام عمر جو تنویرِ مسکراہٹ تھا
ملا وہ شخص ہمیں اب کے سال افسردہ
ہے اور بات وہ غم کو چھپائے بیٹھے ہیں
وگرنہ ان کا بھی ہے مجھ سا حال افسردہ
تمہارے غم سے گُل و کہکشاں ستارے اور
ہیں دیکھے میں نے یہ شمس و ہلال افسردہ
نگاہِ غور سے دکھو تمہارے دیوانے
ہیں مشرقین جنوب و شمال افسردہ
چھپائوں تم سے حقیقت میں جعفری کیسے
ہوں دیکھ بدلی ہوئی ان کی چال افسردہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






