عادت انہیں نہیں
Poet: R.K Jazeb By: R.K Jazeb, Jeddahرسم وفا نبھانے کی عادت انہیں نہیں
دل میں جگہ بنانے کی عادت انہیں نہیں
شاید ادھر سے وہ ابھی گزرتا چلا گیا
خوشبو اپنی چھپانے کی عادت انہیں نہیں
کئی رنگ کئی موسم گزرے ہیں اس طرح
شاید پھول سجانے کی عادت انہیں نہیں
ہم انتظار میں انکی جلاتے رہے چراغ
راتوں کو اٹھ کے آنے کی عادت انہیں نہیں
آئے تو طوفاں کی طرح گزرتے چلے گئے
شاید لوٹ کے آنے کی عادت انہیں نہیں
جاذب دیکھتے ہی رہے انکے چہرے کیطرف
شاید نظر ملانے کی عادت انہیں نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







