عاشق کے دل کو جلانا برا ھے
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK دنیا بری ھے زمانہ برا ھے
دل کا یہاں پر لگانہ برا ھے
کہیں کس سے جاکر یار کا فسانہ؟
زمانہ ھے دشمن! زمانہ برا ھے۔
کہتے ہیں لوگ سچ بقول اسکی زبانی۔
کہ غیر کے یہاں آنا جانا برا ھے۔
آساں نہیں کچھ حال دل کہنا۔
اور کہہ کر پھر چھپانا برا ھے۔
در یار خود سر جھکا ئے ہوے ہیں۔
کوں کہتا ھے دل کو ٹھکانہ برا ھے؟
دور حاضر میں کوئی نصیحت کرنا۔
جرم ھے گویا یعنی سمجھانا برا ھے۔
پیار کی حقیقت سے انکار ی ھے جو۔
وہ جانے ان جانے دیوانہ برا ھے۔
خطا خود کی اپنی قصور خود کا اپنا۔
پھرہمکو مرید الزام ٹہرانہ برا ھے۔
فطرت سے اس کی خوب ہیں واقف۔
ہم خوب جانتے ہیں کتنا زمانہ برا ھے۔
مانا تم کو نفرت ھے لفظ محبت سے۔
مگر یہ تو مت کہہ کہ معنی برا ھے۔
چلو نہیں آ تے ھے مرضی تمہاری۔
مگر نہ آنے کا تیرے بہانہ برا ھے۔
ھے ساری دنیا اسد پیار میں پاگل!۔
ہم نے کب کہا ؟ پیار جانا برا ھے؟
یار سے کہہ دو کہ تھوڑا احتیاط برتے۔
کسی عاشق کے دل کو جلانا برا ھے۔
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






