عشقِ مصطفٰیؐ میں ہوتا ہے فنا جو انساں
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiبسم اللہ الرحمن الرحیم
صلی اللہ علیہ وسلم
جیسے نصیب گنبدِ خضرا کی زیارت ہوتی ہے
اسے دنیا میں جنت کی بشارت ہوتی ہے
ادب سے کرے تحریر جو نعتِ خیرالبشرؐ
ارفع سب سے اس کی عبارت ہوتی ہے
صاحبِ علم و معرفت ہے جہاں میں وہ بشر
عشقِ مصطفٰیؐ میں غرق جس کی امارت ہوتی ہے
ہو جس کی زباں پر ہر دمِ صلِ علیٰ
اس کو عطا قلب کی بصارت ہوتی ہے
منافق کی نگاہ میں ہے حقیر وہ عاشق
جیسے نعتِ مصطفٰیؐ کہنے کی جسارت ہوتی ہے
عشقِ مصطفٰیؐ میں ہوتا ہے فنا جو انساں
نصیب اس کے نفس کو طہارت ہوتی ہے
رشک کرتے ہیں ملائک بھی عاشقانِ نبیؐ پر حضوری
عطا ان کو عبادت میں ایسی مہارت ہوتی ہے
صلی اللہ علیہ وسلم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






