عشق اور تاج محل
Poet: Mobeen Nisar By: Mobeen Nisar, Isamabadیہ صدیوں سے جاگتا عشق
یہ زمانوں سے بے خواب عشق
یہ بیتابیوں میں ڈوبا ہوا
سنگ۔ مر مر کا تاج عشق
یہ یادگار کہ فن کا اوج۔ کمال
کسی کی صنعائی شہکار عشق
تاج سے روح۔ محبت جھلکتی ھے
سفید چاندنی کے در و دیوار عشق
یہ سانس لیتا ہوا تاج محل
مر مر کی رگوں میں دوڑتا عشق
دلوں کی آرزؤں کا مجسم
ھجر و فراق کی یادگار عشق
حقیقت کا روپ دھارے ہوئے
جگمگاتا چمکتا تاج عشق
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






