جہان عشق کی حیرتوں میں گم ھے
Poet: Mobeen Nisar By: Mobeen Nisar, Islamabadجہان عشق کی حیرتوں میں گم ھے
مکاں لا مکاں کی وسعتوں میں گم ھے
سکوت۔شب میں اک ہنگامہ ھے
دل سوز کی لہروں میں گم ھے
اک دیا جل رہا ھے شب۔تاریک میں
اندھیرا اس کی لو میں گم ھے
کیفیت۔ جذب میں مراقبے کا سرور
بحر۔ بیقراں میں اک قطرہ گم ھے
در و دیوار۔ دل میں ذکر کا سماں
عشق و مستی میں ہوش گم ھے
وقت اپنی رفتار سے چل رہا ھے
گردش۔ جہاں اپنے مدار میں گم ھے
حرف۔ لاالہ ھے میری زبان پر
میرے اندر پوری کائینات گم ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






