عشق و محبت بھی عبادت کا حصہ ہے جناب!
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaعشق و محبت بھی عبادت کا حصہ ہے جناب!
یہ دلفریب ، یہ دلچسپ قصہ ہے جناب!
آپکو کیوں ہے اعتراض عملِ محبت سے
یہ محبت ہی جنت کا صحیح رستہ ہے جناب!
شجرِ محبت میں راحتیں ہیں مسلسل کی
مٹھاس سے بھرا ہر پھل ہر پتا ہے جناب!
بارش ہے محبت جس میں نفرتیں دُھلتی ہیں
اسی کی آس میں تو صحرا ترسا ہے جناب!
محبت ہی تھی جس نے کیا رانجھا دیوانہ
محبت کیلئے ہی رانجھا نوکر بنا ہے جناب!
شریں میں بسی تھی محبت فرہاد کی اور
شریں کیلئے ہی فرہاد نے پہاڑ چیڑا ہے جناب!
نہالؔ کی کومل پَری ، مہیوال کی سوہنی گجرات
اسی طرح محبت قیس کی سیاہ لیلیٰ ہے جناب!
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






