سینہ چیر جاتی ہیں راتیں دسمبر کی
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaرلاتی ہیں ، ستاتی ہیں راتیں دسمبر کی
تری یادیں لاتی ہیں راتیں دسمبر کی
کہتے ہیں لوگ دسمبر کو سردیوں کا بادشاہ
کیوں میرا جی جلاتی ہیں راتیں دسمبر کی
ترے بازوؤں کے سرہانے جو نہیں رہے
تو تمام شب جگاتی ہیں راتیں دسمبر کی
ہنستی ہیں میری مایوس زندگی پہ پل پل
میرا مذاق اُڑاتی ہیں راتیں دسمبر کی
سینے میں ہجر کے سوگ ہیں ترے بعد
درد میرے بڑھاتی ہیں راتیں دسمبر کی
کالی سیاہ شبیں ، صدائیں بے شکل سی کچھ
نام ترا ہی بلاتی ہیں راتیں دسمبر کی
نہالؔ میں تڑپتا ہوں سسکتا ہوں روتا ہوں
سینہ چیڑ جاتی ہیں راتیں دسمبر کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






