عقیدتوں سے سجائے یوں صبح و شام کوئی
Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohatعقیدتوں سے سجائے یوں صبح و شام کوئی
وفا کے ماتھے پہ لکھ دے تمہارا نام کوئی
زمیں چپ ہو ، ترستی ہو گفتگو کیلئے
فلک کے پار سے کرتا رہے کلام کوئی
ہوائیں سکتے میں آجائیں، سانس تھم جائے
بپا ہو صوت جنوں سوزسے کہرام کوئی
اداسیوں کا سحر ٹوٹے، زندگی آئے
کہیں سے آ کہ پکارے تمہارا نام کوئی
دکھائے ظلمتوں کو روز چمکتا سورج
رکھے امید کی مشعل کو لب بام کوئی
قدم قدم پہ دکھیں معجزے محبت کے
ندا ندا میں ملے طور کا پیغام کوئی
ہر اک شخص کے لہجے سے چاشنی ٹپکے
کبھی کسی کو نہ دے طعنہ و دشنام کوئی
ہر ایک چہرہ گل رنگ دے امید بہار
کسی کے دل میں نہ ہو حسرت ناکام کوئی
جنوں کا ہاتھ تھامے ہم بھی یوں چلیں سدرہ
خرد میں گوندھی زبانیں کہیں سلام کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






