خاک ہستی کو جمع کر کے بہا لے جائے
Poet: Sidra Subhan By: sidra subhan, Kohatخاک ہستی کو جمع کر کے بہا لے جائے
زور دریا سے کہو مجھ کو اٹھا لے جائے
ڈال دے لاش پہ میری اندھیرے کا کفن
اور چلتی ہوئی سانسوں کو قضا لے جائے
سانس لیتا ہو کوئی درد مرے سینے میں
دور ایسے میں کوئی میری دوا لے جائے
شام کی زرد اداسی میں روح ایسے گھلے
گرتے سورج کے پیالے کا مزا لے جائے
پٹخ دے میری اصل ذات کسی ساحل پر
ریگ ہستی پہ لکھا میرا نام پتہ لے جائے
ضبط گریہ سے کہو ترس نہ کھائے مجھ پر
اس قدر مجھکو ڈبوئے کہ فنا لے جائے
گھول کر میری سماعت میں خاموشی اپنی
موج ہستی میں دبی ہر اک صدا لے جائے
منزلیں دور سہی ، راستے پر خار مگر،
چلتے جائیں گے جہاں اپنا خدا لے جائے
کھوج ہستی کی اڑاتی ہے ہمیں یوں سدرہ
جیسے ٹوٹے ہوئے پتے کو ہوا لے جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






