عمر بھر میں کرتا ، ادا رہ گیا
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiعمر بھر میں کرتا ، ادا رہ گیا
قرض محبت کا پھر بھی ، قضاء رہ گیا
وہ مجھے وادیِ وفا میں پکارتا رہا
دیتا ہوا میں بھی ، صدا رہ گیا
وہ خواب جس میں زندگی مقید تھی
وہ خواب آنکھوں میں ، سجا رہ گیا
کتاب محبت کی جلادی تھی میں نے
پر اک صفحے پر لفظِ ، وفا رہ گیا
وہ خط جس میں میری صفائیاں تھیں
وہ خط میرے پاس ، لکھا رہ گیا
بھری بزم میں تیرا بھرم نہ ٹوٹے
یوں میں تجھ سے ملنے کو ، رکا رہ گیا
ایک ہی لفظ کے معنٰے بھی بدل جاتے ہیں
عشق تجھ کو بقاء مجھ کو ، فنا رہ گیا
الفاظ اپنی حقیقت کھودیں تو بات ایسی ہے
روح جسم سے نکلے تو ، کیا رہ گیا
ج ، ڑ ، سے ملا تو جُڑ بیٹھا
ج ، د ، ا ، مل کر بھی ، جدا رہ گیا
اس ایک لفظ سے ہی تو رشتہِ ازدواج مقدس ہے
نکال دو اس سے نکاح تو ، زنا رہ گیا
کون برداشت کریگا اک دوجے کو
پردہ عیبوں سے گر ، اٹھا رہ گیا
اخلاق اس کے پیچھے عمر بھر کی ریاضت تھی
سر یونہی نہ سجدے میں ، جھکا رہ گیا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






