عورت ہونا
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaسب سے مشکل سا لگا، جان کے، عورت ہونا
کچھ بھی پانے کو نہیں، ہے جو سبھی کچھ کھونا
اس کی چیخوں کو مگر کون سنے دنیا میں
ایک کونے میں پڑے گا اسے چھپ کر رونا
گھر کی بیٹی جو بنے لاڈ ملیں کم اس کو
خوشیاں لڑکوں کے لئے، اور ملیں غم اس کو
اور تو اور بُری ماں کو بھی لگتی جائے
لڑکے سب چین سے بیٹھے، تو نہیں دم اس کو
اب جو بیوی یہ بنے گی تو وہاں کیا ہو گا
چاکری سب کی کرے گی تو جہاں کیا ہو گا
پھر بھی شوہر سے پٹے گی، کئی باتیں سن کر
ساس بتلائے گی اس گھر میں کہاں کیا ہو گا
ماں کی صورت چلو سوچا تھا کے راحت ہو گی
ایک لائے گی بہو گھر میں تو فرصت ہو گی
وہ بہو لے کے کہیں بیٹا چلی جاتی ہے
اب جو فریاد کرے اُس سے تو خففت ہو گی
یہ جو بندے ہیں اسے ذات دکھا دیتے ہیں
ورثہ تقسیم کریں، اس کو بھلا دیتے ہیں
ان کے ایوانوں میں جب بات کرو عورت کی
بات پکڑو جو کہیں ، بات گھما دیتے ہیں
زخم اندر ہو یا باہر یہ دکھا سکتی نہیں
عیب تو دور، کہیں جسم چھپا سکتی نہیں
کچھ ہیں باتیں جو اسے سہنا پڑا کرتی ہیں
غیر تو غیر، یہ شوہر کو بتا سکتی نہیں
مرد کرتا جو رہے اُس کو ملے آزادی
گھر سے نکلے ذرا عورت، تو ہے پھر بربادی
کوئی انصاف ملے گا اسے اس دنیا میں
کب کہاں جائے یہ اظہر جی کہو، فریادی
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






