عکس تیرے ھیں
Poet: Saba Hassan By: saba Hassan, Lahoreکوئی پوچھے فراغت کا
مصروفیت میں بھی کام جب نہ ھو
گماں جب ھو........شوخیء تبسم کا
آنکھوں سے نمی چھلکے
کبھی جو بات کرتے کرتے
پہلو بدلتی ھوں
کبھی یونہی۔۔۔۔۔۔ بلا وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔ بے سبب ھی
جب اوروں سے لڑتی ھوں
کبھی بے بات جب سب پہ پیار آتا ھے
جب پہروں دیکھتی ھوں
درختوں کی شاخیں
گویا
بانہوں کو پھیلا محسوس کرتی ھوں
صدا دیتی ھوں وہ
بھولے پنچھییوں کو جیسے
تاریک رات کے ڈر سے
دشمن کی گھات کے ڈر سے
مجھے تم یاد اتے ھو
شعور کی دہلیز پہ آکر
کسی نٹ کھٹ سا
بھت ستاتے ھو
کہ آنے والے سبھی موسم
گئ رُت کے زاوالوں سے
حسیں عالم کے غمازی ھیں
وہ سارے عکس تیرے تھے
یہ سارے عکس بھی تیرے ھیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






