غزل کسی اپنے کے نام
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiایک بسمل، ایک زخمِ دل ہی ساتھ اپنا رہا،
عمر بھر یہ درد ہی سرمایۂ دنیا رہا۔
چھوٹی سی عمر میں دنیا کے سبھی رنگ دیکھے،
خاک چھانی، تب کہیں جا کر مرا چرچا رہا۔
محنتوں سے نام پایا، سر بھی اونچا ہو گیا،
گھر کے اندر کرب لیکن خامشی سے پلتا رہا۔
ایک چاہت تھی جسے دل نے خدا جانا کبھی،
وہ کسی اور کے حصّے کا ہی لکھا رہا۔
جب ملا سب کچھ تو جیسے ہاتھ خالی رہ گئے،
زندگی کا خواب بھی آنکھوں میں ادھورا رہا۔
درد نے ہر موڑ پر مجھ کو سنبھالا اے دوست،
ورنہ ہر اک زخم دل کو توڑ کر بکھرا رہا۔
کہہ رہا مظہرؔ یہی افسانۂ ہستی کا حال،
سب کچھ اس دنیا میں پایا، پر نہ خود اپنا رہا۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






