غزل کی را ہ جو تخٔیل کو ہم نے دکھایٔ
Poet: Asghar Azimabadi By: Syed Asghar Hussain, Patnaغزل کی را ہ جو تخٔیل کو ہم نے دکھایٔ
نگاہِ شوق نے تصویرِ جانا خود بنایٔ
بڑی مدّت سے جنکی راہ سے میں منتقل تھا
پرانی راہ پہ ملنے کی چاہت کھیچ لایٔ
نظر بے چین پھر اُس راہ پہ کیا ڈھونڈتی ہے
شمع پروانے کو محفل میں آخر کھینچ لایٔ
بہت کچھ سونچ رکھّا تھا کہ ملنے پہ کہینگے
مگر بس اک جھلک نے میری ساری سود بھلایٔ
جو آے ٔ سامنے وہ میری پھر تو ہوش کیا تھا
لگا ایسا کہ جنّت سے اُتر کر ہو ر آیٔ
نظر کی شوخیاں چاہت کی میرے ہی لییٔ تھی
مگر جو بات کہنی تھی وہ مجھ سے کہہ نہ پایٔ
گلابی پنکھڑی سے ہونٹ پہ ایسا تبّسم
کہ جیسے جام میں آجاے کویٔ رسملایٔ
وہ تیری ظلف کی لٹ کا تیرے گالوں کا چھونا
وہ شوخی میری چاہت تھی جو ظلفوں نے نبھایٔ
نظر کے سامنے بیٹھی تھی میری جانِ جاناں
مگر پیاسی یہ نظریں ٔ اپنا دامن بھر نہ پایٔ
جو چاہا اُنسے دِل کی مدّعا بھی کچھ تو کہہ دے
نہ جانے کیا ہوا میری زباں کیوں لڑکھڑایٔ
ادھوری بات تھی اور دِل کے ارماں دِل میں ہی تھیں
کہ جانے کی گھڑی اُنکی میرے نزدیک آیٔ
بڑی مشکل سے فرقت کے لییٔ دِل کو منایا
چھُپایا آنکھ میں ہی اشک کی جو بوند آیٔ
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






