ایک اور شب گزر گیٔ فصلِ بہار کی
Poet: Asghar Azimabadi By: Syed Asghar Hussain, Patnaایک اور شب گزر گیٔ فصلِ بہار کی
حد ہو گیٔ خدا کی قسم انتظار کی
بازو پکڑ کے دِل نے کہا بیٹھ جا زرا
پتّوں میںیہ ہلچل ہے کہ آمد ہے یار کی
دِل توڑ کے پتّوں سے ہوایٔں نکل گیٔ
آنکھوں میں اشک چھوڑ گیٔ غمکسار کی
دستور بہ دستور نبھانے کو چل پڑے
آنکھیں بچھی ہیں پھر میری رستے پہ یار کی
تھا مجھکو یقیں تجھ پہ ہمیشہ سے ہی مگر
تیری نظر ہی مجھ پہ نہ تھی ایتبار کی
خونِ جگر میں اپنے قلم کو ڈبو کے ہم
افسانے لکھ رہے ہیں محبت میں یار کی
ہے ایتبار تجھ کو میرے عشق پہ اگر
آ جاؤ ایک بار قسم تجھکو پیار کی
کیسے میں انتظار کروںٔ اور بتا دو
نظروں کو یاس ہے میرے چہرے کے یارکی
راتیں گزرتی ہیں میری تاروں کو جوڑ کر
ہر رات بک رہی ہے ہزاروں ہزار کی
فرقت میں تیری جانے کہاں تک چلے گیٔ
آنکھوں میں اشک لیکے مہبّت میں یار کی
دیوانہ مجھکو کہہ لُو مگر یہ بھی جان لُو
عاشق وہی ہے نام کماییٔ جو پیار کی
گر عشق ہے مرز تو دو ا بھی ہیی تو ہے
ہے عشق ہی جواب تو عاشق کے پیارکی
آ جاؤ تم کے دِل کو زرا چین تو ملے
حالت بری ہے میرے دلِ لالازار کی
اصغر ؔ زباں سے اپنے بیاں اور کیا کرے
سُن لو سدا تو میرے دلِ بے قرار کی
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






