غزل ہے جناب کی

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

کلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی
چراغِ حرف میں جلتی شتاب ہے جناب کی

نظر میں عکسِ تبسم، سخن میں رنگِ جمال
جو موجِ زیست میں آئی، شراب ہے جناب کی

ادب کی راہ میں روشن، خیال کی ہر لکیر
جو حرف حرف میں ڈھلتی نصاب ہے جناب کی

دعائیں بانٹنے والا، سکوت میں بھی جَواں
جو لب پہ آ کے رُکے وہ خطاب ہے جناب کی

کہاں سے آئے یہ خوشبو؟ کہاں سے یہ آئینہ؟
جو عکس بن کے چمکتی نقاب ہے جناب کی

وہ جس کے ذکر سے مہکے دلوں کا دَشت تُمام
جو دھڑکنوں میں اُترتی، وہ تاب ہے جناب کی

سخن کے رنگ میں ہر بات نرم ہو جیسے
جو دل پہ اُترے وہ نازک جواب ہے جناب کی

جو لوحِ وقت پہ مظہرؔ ہو نقش جیسے وَفا
وہ سَطر سَطر جو چمکے، کتاب ہے جناب کی

Rate it:
Views: 113
02 Feb, 2026
More General Poetry