اے خالقِ دو عالم ! تُو مالکِ دوراں ہے

Poet: محمد اسدؔ علی By: M Asad ali, Sargodha

اے خالقِ دو عالم ! تُو مالکِ دوراں ہے
ہر ذرے کی آنکھوں میں تیرا ہی گلستاں ہے

روشن ہیں تری خاطر یہ شمس و قمر ایسے
جیسے کہ کسی در پر اک شعلہِ لرزاں ہے

ظلمت کے سمندر میں تُو نور کا ساحل ہے
تقدیر کی کشتی کا تُو ہی تو نگہباں ہے

ہر سانس جو لیتے ہیں، مرہونِ کرم تیرے
ہر رگ میں جو جاری ہے، وہ تیرا ہی احساں ہے

تو رزق جو دیتا ہے کیڑوں کو بھی پتھر میں
جو حکمِ خدا سے روشن مہرِ درخشاں ہے

مومن کی اداؤں میں ، طائر کی زبانوں میں
بندوں کا مرے مولیٰ ! تو ہی تو قدرداں ہے

دے اِذنِ لقا تو اسدِؔ سوختہ جاں کو اب
کہ وہ میں مدینہ دیکھوں یہ مرا ارماں ہے

Rate it:
Views: 146
05 Feb, 2026
More General Poetry