غزل
Poet: شکیلہ احمد By: Shakeela Ahmad, Pindi Bhattianتیری چاہت کا دوسرا نام گمنام ہے محبت
تیری عاشقی کا دوسرا نام سرعام ہے محبت
تو عاشق ہے نئے دور کا
اسی لیے تو تیری بدنام ہے محبت
تو نفرت بھی کرتا ہے دنیا کی خاطر
دل میں ہل چل مچی ہے کمبخت عام کی سی محبت
ہائے! داستان سنو تو لیلہ مجنوں کی سی
پر دلوں کو یقین دلانے میں ناکام ہے تیری محبت
نظریں ملاؤ تو بھسم ہو جائیں
پھر پچھتائیں تیری اس بے نام محبت
دل تو پوچھتا ہے تیر انداز سے شکیلہ
کیا یہی دستور پیام ہے محبت
More Love / Romantic Poetry






