غزل
Poet: Syed Najaf Ali Sherazi(Udaas Sherazi) By: Sayed Najaf Ali Sherazi, Gujranwalaآپ سمجھتے ہو کہ ہم آپ کو بھلا رکھا ھے
نہیںآپ جانتے آپ کو دل میں بسا رکھا ھے
دیکھ نہ لے کوئی آپکو ہماری آنکھوں میں
اس لئے اپنی پلکوں کو جھکا رکھا ہے
دل کی دھڑکنوں میں ھے بس یاد آپ کی
بس یہی راز آپ سے چھپا رکھا ہے
جیون کے موڑ پر نہ تنہا چھوڑ کر
نبھائیں گے ہر رشتہ آپ کو بتا رکھا ہے
اب ڈال پیار اپنا ہماری جھولی میں
اب ڈال پیار اپنا ہماری جھولی میں
تیرا نور جلوہ مدہوش کرے میری جوانی
بس تونے ہمیں یہی بتا رکھا ہے
لیا عہد جو تم نے اداس سےوفا کااک دن
وہ وعدہ آج تک نبھا رکھا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







