غم کیسا آیا
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanیہ غم کیسا آیا میری آنکھوں میں جو نم لایا
چاہت میں یہ پُر خطر موڑ پر کیوں آیا
ملنے سے پہلے ہی اس قدر کیوں دور ہو گےَ
ہماری ملاقات میں اس قدر فاصلہ کیوں حائل آیا
ہیں جسم الگ ہمارے پر روح تو الگ نہیں
فاصلہ ہے اگرچہ درمیان پر دل تو دور نہیں
میری پلکیں نم ہیں لیکن دل تو نااُمید نہیں
دیدار ہونے سے پہلے جُدائی کا موسم پھر کیوں اُمنڈ آیا
تیری صورت روشنی کی طرح میری آنکھوں میں بسی ہے
میرے لاغر جسم میں تجھ سے ملنے کی خواہش ہی زندگی ہے
راستے پر نظریں لگائے کھڑا ہوں کبھی تو پیار کی گھٹا چھائے گی
ملنے سے پہلے ہی بچھڑنے کا موسم پھر کیوں میرے دلدار آیا
لگتا ہے آرام کی نیند اب تو میری قسمت میں ہی نہیں
چل دوں گا دنیا سے تیرے ملنے سے پہلے ہی
تیری جُدائی کا زہر پینے کی اب میرے جسم میں سکت ہی نہیں
ذوالفقار زندگی کی شمع بجھنے پر اُن کا خیال پھر کیوں آیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






