غم یہ نہیں ہے اس نے توڑا ہے دل ہمارا
Poet: Khalid Mahmood By: Khalid Mahmood, Abha_Saudi Arabiaغم یہ نہیں ہے اس نے توڑا ہے دل ہمارا
افسوس ہے کہ ہم کو اپنا بنا کے مارا
محفل سے جا چکے ہیں محفل سجانے والے
جو شمع بجھ گئی ہو اب کیا جلے دوبارہ
آنکھیں تمہارے دل کی دیتی نہیں گواہی
جو دل میں ہے تمہارے اب کہہ بھی دو خدارا
حاکم وطن کو جس نے فرعون لکھا
حق زندہ ہو گیا پر مارا گیا بے چارہ
تڑپا جو دل ہمارا تم نے پکارا ہو گا
دنیا میں کون ہو گا تیرے سوا ہمارا
خالد اداس کیوں ہے سارے شہر کا موسم
بچھڑے ہوئے مسافر ملتے نہیں دوبارہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






