غیر کے نام کی ہاتھوں پہ سجا کر مہندی
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiغیر کے نام کی ہاتھوں پہ سجا کر مہندی
وہ مجھے یوں بھی جلاتا ہے دکھا کر مہندی
ایسی مہندی نہ میسر ہو کسی کو مولیٰ
جو کہ رنگ لاۓ کسی کو بھی رُلا کر مہندی
اس طرح بھی کبھی آتی ہے مجھے سوچ کہ میں
اس کے ہاتھوں سے مٹا دوں کبھی جا کر مہندی
یہ بھی تڑپاتی ہے دن رات مجھے سوچ اکثر
دے گیا کیوں وہ مجھے ہاتھ ملا کر مہندی
دھونے والے سے کبھی کوئ تو یہ بھی پوچھے
اس کو کیا ملتا ہے پیروں میں بہا کر مہندی
کاش اک بار تو کہہ دیتا وہ رخصت ہوتے
مجھ کو لے جاؤ مرے یار مٹا کر مہندی
تھی پسند اس کو اگر غیر کی مہندی باقرؔ
پھر مرا خون ہی لے جاتا بنا کر مہندی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






