فاصلہ طے نئی دیوار نہ کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامیرے گریہ سے نہ آزار نہ کر
فاصلہ طے نئی دیوار نہ کر
ورنہ یہ قصہ بھلا ختم ہی کر
داستاں سے مرا کردار نہ کر
جو بھی تا خیر کا یہ سارا فساد
راہ افتادہ کو بیکار نہ کر
غم نہیں تخت کے کھونے کا
کب مرا ہونا بھی دستارنہ کر
جاگنا تھا مرے ہنگامہ ہستی کا
حشر برپا بھی دگربار نہ کر
گردشِ رنگِ طرب سے ڈر ہے
ورنہ مر جانے میں تیار نہ کر
گوشۂ باغ ہوا خلد سے جو
آئینہ عکس ہے رخ یار نہ کر
کہتے ہیں جیتے ہیں اُمّید پہ لوگ
ہم کو جینے سے انکار نہ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






