دل سے دل کو راہ
Poet: نعمان صدیقی By: ن سے نعمان صدیقی, Karachiجب دل سے دل کو راہ ہوتی ہے
ایک کی تڑپ دوسرے کی آہ ہوتی ہے
بات کرنے کی نوبت تو آتی ہی نہیں
ایک کی نظر دوسرے کی نگاہ ہوتی ہے
دور ہوتے بھی وہ کچھ کچھ پاس ہوتی ہے
عقل دل کی بات سے آگاہ ہوتی ہے
چاروں سمت سے آجاتی ہے مدد
شدید اگر کسی کی چاہ ہوتی ہے
وہ خود ہی چل کر آتی ہے اتنے قریب
منزل مُسافر کے سفر میں زادِ راہ ہوتی ہے
جس راہ اُٹھے تھے تمہارے قدم نعمان
وہ اُن کی عام سی گزرگاہ ہوتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







