فاصلے سے ملا کرو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillانہی چاہتوں سے ملا کرو ۔ اسی ولولے سے ملا کرو
بڑی آرزوئیں ادھار ہیں ذرا حوصلے سے ملا کرو
غم زندگی کی پناہ ہیں ۔ تیری آس سے جڑی راہ ہیں
شب ہجر کے یہ گواہ ہیں یہاں ہر دیے سے ملا کرو
تجھے زندگانی کے بھید سارے ملیں گے صحرا کی دھول میں
کبھی فرصتوں کی بہار میں کسی دل جلے سے ملا کرو
تیری جستجو کا قرار ہے تیرے اپنے پن کی تلاش میں
سر شام میرے خیال میں کبھی آئینے سے ملا کرو
میری جان پھولوں کے دل میں بھی ہے تمہارے لمس کی آرزو
میں رقابتوں کا دھنی نہیں ۔ انہیں فاصلے سے ملا کرو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






