فرضِ محبت
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiجان محبوب کے قدموں پہ فدا ہو جائے
ہم سے یہ فرضِ محبت بھی ادا ہو جائے
تیرے بیمارِ محبت کو شفا ہو جائے
یعنی وہ درد عطا کر کہ دوا ہو جائے
اِس قدر بے خودئ شوق سوا ہو جائے
میرا ہر ایک نَفَس دستِ دُعا ہو جائے
اِک تری نظرِ عنایت جو عطا ہو جائے
روز و شب مست رہوں ایسا نشہ ہو جائے
ایک ہی غم ہے مری جانِ حزیں کو لاحق
میرا محبوب نہیں مجھ سے خفا ہو جائے
صحنِ دل میں جو کبھی خوشبوئے جاناں مہکے
مست و مخمور مرے دل کی فضا ہو جائے
عمر بیتی ہے یہی عرضِ تمنا کرتے
فیصلؔ خستہ کو توفیقِ وفا ہو جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






