صبر کی انتہا کر کے
Poet: صبغہ احمد By: Sibgha Ahmad, Layyahصبر کی انتہا کر کے
بہاروں کو خزاں کر کے
نہ کچھ ہم نے پایا تھا
نہ کچھ ہم نے پایا ہے
عجب ہے حوصلہ دل کا
وصل کو ہجر کر کے
نہ رونا ہم کو آیا تھا
نہ رونا ہم کو آیا ہے
محبت میں ناکامی میں
عام سا اک فلسفہ ٹھہرا
کہ وعدوں کو وفا کر کے
نہ راحت ہم نے پائی تھی
نہ سکوں ہم نے پایا تھا
لو اب آزاد ہو جاناں
نہ ہم تم کو ستائیں گے
کرب کی رات میں بھی
مثل اس کے مسکرائیں گے
کہ کچھ نہ ہم نے کھویا تھا
کچھ نہ ہم نے پایا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






