صبر کی انتہا کر کے
Poet: صبغہ احمد By: Sibgha Ahmad, Layyahصبر کی انتہا کر کے
بہاروں کو خزاں کر کے
نہ کچھ ہم نے پایا تھا
نہ کچھ ہم نے پایا ہے
عجب ہے حوصلہ دل کا
وصل کو ہجر کر کے
نہ رونا ہم کو آیا تھا
نہ رونا ہم کو آیا ہے
محبت میں ناکامی میں
عام سا اک فلسفہ ٹھہرا
کہ وعدوں کو وفا کر کے
نہ راحت ہم نے پائی تھی
نہ سکوں ہم نے پایا تھا
لو اب آزاد ہو جاناں
نہ ہم تم کو ستائیں گے
کرب کی رات میں بھی
مثل اس کے مسکرائیں گے
کہ کچھ نہ ہم نے کھویا تھا
کچھ نہ ہم نے پایا ہے
More Love / Romantic Poetry






