قدم وہاں چلتے ہیں جہاں سوچ کھینچ لے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiقدم وہاں چلتے ہیں جہاں سوچ کھینچ لے
لہروں کا بھی یہی سنگم جہاں موج کھینچ لے
آؤ کہ اطاعت گذاری کا بھی کچھ سوچیں
کیا پتہ کبھی ذمیواری کا بوجھ کھینچ لے
ان کناروں کے سفر سے دور بھی رہو
کھلی سانس کو پھر نہ تموج کھینچ لے
بارآوری نہیں بھی مگر امید کس نے چھوڑی
ہو سکتا ہے منزلوں کی کھوج کھینچ لے
جو خوشیوں کے پل ہیں تھم کے گذارلو
ایسا نہ ہو کہ کہیں پھر روج کھینچ لے
ہماری دعا کہ توُ صاحب ثروت رہے سنتوشؔ
خدا نہ کرے کہیں کوئی حوج کھینچ لے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






