لوگ ہیں کہ بے وجہ سوال کرتے ہیں
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwalaلوگ ہیں کہ بے وجہ سوال کرتے ہیں
اپنی طرف سے بڑا وہ کمال کرتے ہیں
لیتے ہیں تیرا نام میرے نام کے ساتھ
یوں جینا میرا وہ محال کرتے ہیں
دیوانے کا خطاب دیتے ہیں سر شام
ہر صبح مجھے وہ بےحال کرتے ہیں
جب بھی نکلتا ہوں سر بازار میں
چھیڑ کر مجھے وہ دھمال کرتے ہیں
سنگدل ہیں، دن رات ستاتے ہیں اتنا
میرے آرام کا ذرا نہ خیال کرتے ہیں
اک انوکھا رواج ہے اس دنیا کا، سبھی
اک دوسرے کو یہاں استعمال کرتے ہیں
لوگ کچھ بھی کہیں ہمیں عمراؔن!
تم سے محبت ہم بے مثال کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






