تھا ویراں مدت سے، بہلانے چلے آئے
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwalaتھا ویراں مدت سے، بہلانے چلے آئے
تیرے دل سے دل ہم لگانے چلے آئے
شاید ہو جائے کچھ آفاقہ جام سے
بس یہی سوچ کر میخانے چلے آئے
دیکھا جو اتنا اضطرب مجھ میں
میری طرف لپکے پیمانے چلے آئے
زخموں پہ مرحم جو رکھا ہم نے
وہ مسکرائے اور درد بڑھانے چلے آئے
رولاتے رہے ذندگی بھر جو مجھ کو
میری میت پہ آنسو بہانے چلے آئے
کھو چکے جب سننے کی شکتی ہم
تو آواز مجھ کو وہ سنانے چلے آئے
غیر ہی سمجھتے رہے عمر بھر جو
روح ہوئی پرواز تو اپنانے چلے آئے
زندگی بھر رہے روٹھے ہم سے عمراؔن
آٹھ گئے جب جہاں سے تو منانے چلے آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






