لگا دے ا ور بھی الزام جو الزام ابھی باقی ھے
Poet: SARFARAZ KHAN By: sarfaraz khan, mumbaiلگا دے ا ور بھی الزام جو الزام ابھی باقی ھے
تو کیا جانے کہ میرا انتقام ابھی باقی ھے
سوچتا ہوں کہ محبت کی داستان لکھ دوں تم پر
ماگر جنگ الفت میں قتل عام ابھی باقی ہے
دست صحرا میں ترے واسطے یلگار چھڑ گیی ھے
مگر تلوار سرخ ہے مری نیام ابھی باقی ھے
جو ہیں دشمن اسی گھر میں بسیرا تیرا
بڑھ آ دو قدم کہ خشیوں کے ایام ابھی باقی ھے
جان ہاتھوں پہ لیے تری ور چلا آتا ہوں
ا ٹھا دے چلمن کہ شہادت کا جام ابھی باقی ھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






