Flirt

Poet: Neelam Ali By: Neelam Ali, Bahawalpur

Bhla Ye Koi Baat Hui
Her Maur Pr,Her Chorahy Pr
Galiyun Mein,Munderoun Pr
Her Koi Kisi Na Kisi Sy
Muhabbat Ka Aseer Hai
Naam Nihad Muhabbat Ka
Is Dunya Mein Jahan
Her Koi Masroofiyat Ka Rona Rota Hai
Logon K Pas Itna Waqt Kahan Sy Ata Hai
K Wo Muhabbat Kren Phly Aur Phir,
Izhar Bhi Daagh Dalen
Main Mutafik Nahi Is Bat Sy
Muhabbat Gr Sachi Ho To Usy
Izhar Ki Zarurat Hai Kya ?
Sb Naam Ki Muhabbat Krty Hain
Chahty Hain,Kho Dety Hain Phir
Bhool Jaty Hain
Aur Phir Zindagi K Jhamely
Itni Fursat Hi Kb Dety Hain
K Mazi Ki "Muhabbat" Ko Yad Kia Jay
Sb K Sath Esa He Hota Hai
Aur Aaj Kal Ki Muhabbat Bhi To Ikhtiyari Hai
Aajkal K Saainsi Daur Mein
Aik Rebort Ki Tarha
Jab Chaho Muhabbat Kr Lo, Phir
Jab Chaho Bhul Jao
Dil Sy Nikal Kr Shopping Pr Chaly Jao
Koi Business Deal Kro Ya
Kisi Naye Sathi K Sath "Candel Light Dinner"
Aik Khas Waqt Tk Muhabbat Kro Phir
Aik Khas Hadd Tk Usy Bhul Jao
Ye To Koi Baat Na Hui Na
Phir Bhi
Subha O Shaam, Din Raat
Chalty Phirty, Uth'ty Beth'ty
Dil Sy Tumhari "MUHABBAT" Ka Aitraf Krty Huy
Ik Kamini Si Khushi Hoti Hai
 

Rate it:
Views: 4564
24 Oct, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL